ابنا: پولیٹالیسک ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ناروے میں حالیہ دہشت گردی کے واقعے میں مرنے والے اکثر افراد اسرائیلی جرائم اور مظالم کے مخالف اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے والے تھے۔
اس ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے دہشت گردی کے اس واقعے سے صرف دو روز قبل یٹویا جزیرے میں فلسطینی مملکت کے قیام کی حمایت اور اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے بارے میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔ حتی ان نوجوانوں نے ناروے کے وزیر خارجہ یوہانس اشتور سے ملاقات کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ ستمبر کے مہینے میں ناروے کی حکومت آزاد فلسطینی مملکت کو تسلیم کرنے کی کوشش کرے۔ ناروے کے وزیر خارجہ نے ان نوجوانوں سے کہا تھا کہ فلسطینیوں کو بھی ایک آزاد ملک رکھنے کا حق حاصل ہے اور فلسطین پر قبضے کا خاتمہ ہونا چاہیے اور صیہونی دیوار منہدم ہونی چاہیے۔
لیبر پارٹی کے نوجوانوں کے سربراہ اسکیل فدرسن نے بھی ناروے کی اس ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نوجوان اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ اور اسرائیلی مظالم کا مقابلہ کرنے کے لیے ناروے کی جانب سے فعال پالیسی اپنائے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
دوسری جانب ناروے میں آج کم از کم ایک لاکھ افراد نے دہشت گردی کے اس واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔
.............
/169
25 جولائی 2011 - 19:30
News ID: 255863
ناروے کی ایک ویب سائٹ نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعے میں مرنے والے اکثر افراد اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے حامی تھے۔